BUGTI DEATH WILL BREAK PAKISTAN SOONER OR LATER says CPP.

Bughti 320x320

Communist Party of Pakistan (CPP) issued a statement on 27th August, 2006 one day after his assassination and hold that ”Bugti death will break Pakistan sooner or later” and we still of the same opinion. Our party statement of 27th August, 2006 is reproduced herewith again.

(ISLAMABAD – 27TH AUGUST, 2006)         The death of Nawab Akbar Bukti and other baluch nationalist leaders by the military forces of Musharraf last night will now ultimately break the Pakistan sooner or latter and the sacrifices of their life’s by the Baluchi Chief Bugti and other bravo national baluch leaders for not accepting the hegemony of military dictatorship of Musharraf, infact, has now laid down the first foundation stone for the independence of Baluchistan. Continue reading

Muslim kills woman whereas Communist respect and don’t kills woman, says Chairman CPP.

Najma Hanif, a woman political worker of Awami National Party (ANP) and a candidate of ANP in the Provincial Assembly seat was shot dead by unknown gunmen inside her house in Hayatabad locality in Peshawar, provincial capital of Khyber Pakhtunkhwa.

Earlier her 16 year old son and husband, ANP Tehsil Nazim Hanif Jadoon was killed in a suicide attack in Swabi on the second day of Eidul Fitr in 2011.

CPP Chairman, Engineer Jameel Ahmad Malik strongly condemned the killing of a woman and said with heavy heart that ‘‘Muslim kills woman whereas Communist respect and don’t kills woman’’ and ‘‘this is the only difference between a Muslim and a Communist’’. From: Press Media of CPP www.cpp.net.pk

21401_10201203169814793_129199388_n

Chairman CPP, Engineer Jameel Ahmad Malik & CPP paid a high tribute to Zamarud Khan for bravery.

Chairman CPP, Engineer Jameel Ahmad Malik and CPP paid a high tribute to Chairman of Baitul Maal, PPP Leader and EX-MNA Zamarud Khan for his courageous and bravery shown for capturing Sikander, who paralyzed Islamabad (IBD) for six hours and finally Zamarud Khan saved many life’s. This incident will live long in our history.

 

CPP urges SC for Suo Motu of Jasmeen story against MQM.

CPP Chairman, Engineer Jameel Ahmad Malik urges the Supreme Court of Pakistan
for Suo Motu of this story against MQM immediately so the Pakistani Nation knows
what is “TRUTH” Behind My Silence! Jasmeen Manzoor http://shar.es/y9wAy via
@pakistantv1
http://www.pakistantv.tv/2013/08/14/truth-silence-jasmeen-manzoor/#sthash.0NQqHPvn.zCtZunPJ.dpbs
From: Press Media of CPP www.cpp.net.pk

“TRUTH” Behind My Silence by TV Anchor Jasmeen Manzoor.

“TRUTH” Behind My Silence !

http://jasmeen2013.blogspot.com/2013/08/truth-behind-my-silence.html

” Bol kay Lab azad hain Terey ”
My silence should not be looked upon as my weakness ! My truth should be judged by my viewers and many of those who have eagerly waited to hear the “The truth “that lead to my resignation from Samaa after 4 years. Long hard four years of work , when I think back it seems like a  journey of a life time.
My father always said ” Don’t speak too much truth its not worth it” in this male dominated society. I always laughed and in my 15 years of journalistic career it seems he was right. He passed away two years ago fearing everyday for my life. The city I love the most was burning everyday, and everyday someone I did not know died in target killing.
So I became  the voice of  the people but now I am unheard .I tried protecting the rights of the Pakistanis but now my rights are being violated . I fearlessly talked about the better future of my fellow citizens but my future has been compromised. I talked against  the ruthless target killing in Karachi but now I am on the hit list of target killers” Continue reading

Nazir Abbasi and Communist Movement by Sohail Sangi.

Chairman of CPP, Engineer Jameel Ahmad Malik demands from the Government for immediately arrest of Brigadier (R) Imtiaz Ahmad alias ‘Billa’ as he is responsible for the murder of our Comrade Nazir Abbasi Shaheed. From: Press media of CPP www.cpp.net.pk

http://urdu.dawn.com/2013/08/09/nazir-abbasi-and-the-communist-movement-sohail-sangi/

نذیرعباسی اور کمیونسٹ تحریک

Friday 9 August 2013
3

Nazir-abbasi 670

نذیر عباسی کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے کے لیے 2008 میں نکالی گئی ایک ریلی۔جام ساقی قیادت کر رہے ہیں۔ —. فوٹو سہیل سانگی

آج یہ بات بحث طلب سمجھی جاتی ہے کہ کمیونزم قابل عمل نظریہ ہے بھی یا نہیں، لیکن کل تک اس نظریہ پر دنیا بھر میں لوگ کبھی جیولس فیوچک کی طرح تو کبھی چے گویرا کی طرح جان کا نذرانہ دینے سے گریز نہیں کرتے تھے ۔پاکستان کی دھرتی بھی بانجھ نہیں یہاں حسن ناصر اور نذیر عباسی دو ایسے کردار پیدا ہوئے جن کو کمیونسٹ قرار دے کرخفیہ اداروں کی اذیت گاہوں میں قتل کردیا گیا۔

نذیر عباسی سندھ سے تعلق رکھنے والے صف اول کے کمیونسٹ تھے۔ وہ 10 اگست 1953 کو ٹنڈوالہ یار کے لوئر مڈل کلاس گھر میں پیدا ہوئے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف اسٹوڈنٹس کے وائس چیئرمین رہے۔ یہ وفاقی تنظیم چاروں صوبوں کی ترقی پسنداور مقبول طلبا تنظیموں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پنجاب اسٹوڈنٹس یونین پر مشتمل تھی۔

اب تو بہت کچھ بدل چکا ہے۔ حکومت خواہ امریکہ دونوں کو نہ کسی کے کمیونسٹ ہونے پر اورنہ کمیونسٹ پارٹی پر اعتراض ہے۔ پچاس کی دہائی سے لے کرسوویت یونین کے ٹوٹنے تک کمیونسٹ ہونا پاکستان حکومت کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی کمیونسٹ مقبول لیڈر کے طور پر ابھرا، حکومت نے اسے حسن ناصر اور نذیر عباسی کی طرح زندہ نہیں چھوڑا، یا پھر جام ساقی کی طرح تب تک قید رکھا کہ وہ ذہنی یا جسمانی طور پر اپاہج ہوگیا۔

اس لیے پارٹی کے لیڈر اور کارکن زیرِ زمین یعنی روپوش ہو کر کام کرتے تھے۔

انقلاب ایران اور پھر افغانستان میں سوشلسٹ انقلاب کے بعد حکمرانوں کو لگا کہ انقلاب پاکستان کے دروازے پر بھی دستک دے رہا تھا۔ حکمران ڈرے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں پارٹی نے ’’چھینو چھینو پاکستان، جیسے چھینا افغانستان‘ ‘کے موضوع سے ایک ہینڈ بل شائع کیا ۔یہ ہینڈ بل خاصا متنازع رہا کہ واقعی پاکستان کے کمیونسٹ اس پوزیشن میں تھے کہ وہ افغانستان کی طرح یہاں انقلاب لے آتے؟

بہر حال افغان انقلاب کے بعد کمیونسٹوں کی مقبولیت بڑھ رہی تھی اور پاکستان حکومت کی نظر میں وہ اور زیادہ خطرناک ہوگئے تھے۔

روپوش رہ کر شہرشہر جا کر کام کرنے والے کامریڈ جام ساقی کوگرفتار کر لیا۔ جام ساقی کو ملک کے سیاسی اور اہل فکرو دانش حلقوں میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ان کی گرفتاری پاکستان کے کمیونسٹوں کے لیے بڑا دھچکا تھا۔

nazir abbasi1 670

بےنظیر بھٹو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے فوجی عدالت میں داخل ہو رہی ہیں۔ تصویر میں وکیل صفائی یوسف لغاری، ملزمان میں سے شبیر شر اور بدر ابڑو بھی نظر آرہے ہیں۔ —. فوٹو بشکریہ مصنف

دوسرا دھچکا کمیونسٹ پارٹی کے مزدور فرنٹ پر کام کرنے والے اور مقبول مزدور رہنما شمیم واسطی کی گرفتاری تھی۔

حکومت نے تیسرا وار1980میں کیا۔خفیہ اداروں نے حیدرآباد اور کراچی میں پارٹی کے تین خفیہ مقامات کا سراغ لگا لیا جو پارٹی کے دفاتر کے طور پر کام کرتے تھے۔ یوں ضیاء حکومت پارٹی کے سرکردہ رہنما گرفتار کرنے اور اس کا نیٹ ورک پر ضرب لگانے میں کامیاب ہوگئی۔ فوج کے خفیہ اداروں نے کراچی کی ایک کچی آبادی میں چھاپا مار کر وہاں سے نذیر عباسی، پروفیسر جمال نقوی، کمال وارثی اور شبیر شر کو گرفتار کر لیا۔بعد میں اسی مقدمے میں میری اور بدر ابڑو کی بھی گرفتاری عمل میں آئی۔

1953 کے بعد پارٹی پر یہ بڑا حملہ تھا ۔ یہ محض حسن اتفاق بھی نہیں تھا کہ کمیونسٹوں کے خلاف یہ دونوں کریک ڈاؤن تب ہوئے جب پاکستان امریکہ سے نئے رشتے میں جڑ رہا تھا۔

کمیونسٹ پارٹی کے ان دفاترسے خفیہ والوں نے کیا برآمد کیا؟ دو سائکلو اسٹائل اور ایک فوٹو اسٹیٹ مشین، چند کاغذ کے ریم اور چھپائی کی سیاہی جس کے ذریعے پارٹی کا پرچہ ’’سرخ پرچم‘‘، ’’ہلچل ‘‘ یا بعض اوقات ہینڈبل چھاپتے تھے۔

پارٹی کے پاس واقعی حکومت پر قبضے کا کوئی پلان تھا؟ دوران تفتیش گرفتار شدگان کو ان سوالات کا سامناکرنا پڑا۔ بعد میں خصوصی فوجی عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ الزامات یہ تھے کہ یہ لوگ پاکستان میں فوجی حکومت کا تختہ الٹ کر یہاں سوویت یونین جیسا سوشلسٹ نظام رائج کرنا چاہتے ہیں۔یہ مقدمہ بعد میں جام ساقی کیس کے طور پر مشہور ہوا۔ ملک کے نامور سیاستدان بینظیر بھٹو، ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، بیگم طاہرہ مظہرعلی خان، شیخ رفیق احمد، مولانا شاہ محمد امروٹی اور دیگر رہنما کمیونسٹوں کے دفاع کے لیے گواہوں کے طور پر فوجی عدالت میں آئے۔پنڈی سازش کیس کے بعد یہ پہلا مقدمہ تھا جو کمیونسٹوں پر بطور کمیونسٹ چلایا گیا۔

جام ساقی کی گرفتاری کے بعد نذیر عباسی ان کی کمی کو پورا کر رہے تھے۔ وہ نوجوان، باصلاحیت، نڈر اور سیاسی حلقوں میں جانے پہچانے تھے۔وہ سیاسی کام کرنے کے حوالے سے نت نئے طریقے ایجاد کر لیتے تھے۔

Nazir-abbasi1 670

محترمہ بےنظیر بھٹو فوجی عدالت میں کمیونسٹوں کے ایک کیس میں بطور صفائی گواہ بیان قلمبند کروا رہی ہیں۔ جام ساقی ہتھکڑی کاندھے پہ لٹکائے ہوئے کھڑے ہیں۔ تصویر میں خصوصی فوجی عدالت کے کرنل عتیق، کیپٹن افتخار جلیس اور مجسٹریٹ حبیب اللہ بھٹو بھی نظر آرہے ہیں۔ —. فوٹو بشکریہ مصنف

نذیر سے میری پہلی ملاقات ستّر کی دہائی کے شروع میں ہوئی جب بنگال میں فوجی آپریشن چل رہا تھا۔ اس کے بعد ہم نے ایک ساتھ پارٹی کی طلبا تنظیم سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں کام کیا۔ طلبہ تنظیم اور پارٹی کے حوالے سے مختلف شہروں کے دورے کیے۔ مختلف مسائل پر احتجاجوں میں ساتھ ساتھ رہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے بعد پارٹی میں شامل ہونے والا یہ شخص ایک دن اتنا بڑا لیڈر ہو جائے گا۔ بہرحال اس کی صلاحیتوں، لگن اور کام کرنے کی قوت کے ہم سب معترف تھے۔

نذیر کہا کرتے تھے کہ کمیونسٹ کاکام ہمہ جہتی ہوتا ہے۔ ہم اگر طلباء محاذ پر کام کر رہے ہیں تو اپنے آپ کو طلبہ تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہم لوگ یونیورسٹی سے سیدھے حیدرآباد میں واقع ٹریڈ یونین آفس آتے تھے اور وہاں پرمختلف کارخانوں میں مزدوروں کے مسائل پر چلنے والی جدوجہد میں ان کی مدد کرتے تھے۔کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ہم نے کئی کئی راتیں حیدرآباد کے صنعتی علاقے کالی روڈ ایریا میں مزدوروں کے ڈیرے پر گزاریں۔وہاں ان سے مزدور تحریک اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کرتے تھے اور اسٹڈی سرکل چلاتے تھے۔

کہیں ہاریوں کی جدو جہد چل رہی ہوتی تھی تو نذیر وہاں بھی جاتے تھے۔ جب یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبا ہاریوں یا مزدوروں میں جاتے تھے تو ان کا حوصلہ بڑھتا تھا۔

نوابشاہ کے علاقے میں ہاریوں کامسئلہ چل رہا تھا۔ سندھ یونیورسٹی جام شورو سے واپسی پرنذیرنے مشورہ دیا کہ ہمیں وہاں چلنا چاہیے۔ میں نے بتایا کہ بات تو ٹھیک ہے لیکن میری جیب میں چار پانچ روپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ فکر نہ کرو میرے پاس پیسے ہیں۔‘‘

جب ہم حیدرآباد پہنچ کر حیدر چوک پر اترے تو بھوک کے مارے برا حال تھا۔ سب سے پہلے پکوڑے اور ڈبل روٹی خریدی اور ہوٹل میں بیٹھ کر چائے پی۔ نذیر کے کہنے پر پکوڑوں چائے کے میں نے پیسے دیئے اور اسٹیشن کی طرف چل پڑے۔ راستے میں پراسرار انداز میں مسکراتے ہوئے بتایا کہ پیسے اس کے پاس بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا پھر کیسے چلیں گے نوابشاہ۔ ہم لوگ بغیر ٹکٹ کے ریل گاڑی میں بیٹھ گئے۔ پورا راستہ میں جھگڑتا رہا کہ یہ کیا بے وقوفی ہے، مفت میں پکڑے جائیں گے ۔ انہوں نے بڑے اطمینان سے کہا کہ ٹکٹ چیکر کو بتائیں گے کہ ہم طالب علم ہیں اور ہاریوں کے لئے جا رہے ہیں۔‘‘ اس کو یقین تھا کہ چیکر اس کی اس سچائی کو سمجھ اور مان لے گا۔ انہوں ہدایت کے انداز میں کہا ’’ اگر کام کرنا ہی ہے تو سمجھو ہر صورت میں کرنا ہے۔‘‘

Nazir-abbasi2 670

بےنظیر بھٹو بیان ریکارڈ کروانے فوجی عدالت میں داخل ہو رہی ہیں۔ تصویر میں وکیل صفائی یوسف لغاری، ملزمان میں جام ساقی نظر آرہے ہیں۔ —. فوٹو بشکریہ مصنف

سندھ یونیورسٹی میں سیاسی کام کرنے کے لیے وہ روزانہ آبائی شہر ٹنڈوالٰہ یار سے آتے تھے۔ یونیورسٹی سے واپسی پر دن بھر کے کام کا جائزہ لینے اور نوٹس کا تبادلہ کرنا ہوتا تھا لیکن وہ بس میں سوئے ہوئے ہی ملتے تھے۔میں نے ایک دن بس میں سونے کی وجہ پوچھی توبتایا کہ رات کو وہ میونسپل ناکے پر ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ڈیوٹی ختم ہونے پر سیدھے یونیورسٹی آ جاتے ہیں۔ وہ بلدیہ ٹنڈوالٰہ یار میں ناکہ منشی تھے اور اپنی ڈیوٹی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا سیاسی کام بھی مکمل طور پر کرتے تھے۔

نذیر کی شادی پر مقدمہ بھی دائر کیا گیا کہ انہوں نے شادی کے نام پر سیاسی جلسہ کیا ہے اور جلوس نکالا ہے۔ انہیں گرفتار کرکے کوئٹہ کے قلی کیمپ میں رکھا گیا۔ اسی عرصے میں ان کے والد کا انتقال ہوا لیکن انہیں آخری دیدار کے لیے بھی رہا نہیں کیا گیا۔ شادی کے بعد ان کی بیوی حمیدہ جو کہ پارٹی کی کارکن تھیں، کو ’’پٹ فیڈر ہاری تحریک‘‘ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

وہ قلی کیمپ کوئٹہ سے رہائی پر انہوں نے بتایا کہ انہیں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دھمکی دی ہے کہ تم نے اگر اپنا سیاسی کام بند نہ کیا اور اب کے پکڑے گئے تو زندہ نہیں بچوگے۔ 1980 میں ان اہلکاروں نے یہ بات سچ ثابت کرکے دکھائی، نذیر عباسی کی دوران تفتیش پراسرار حالات میں موت واقع ہوگئی۔

پارٹی نے نذیر کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔ اور وہ روپوش ہوگئے۔ روپوشی میں پارٹی کا کام پہلے سے بھی زیادہ لگن کے ساتھ جاری رکھا۔

30 جولائی 1980 نذیر عباسی دوبارہ گرفتار ہوگئے اور نو اگست کو انہیں اذیتیں دے کر قتل کر دیا گیا۔ انہیں ایدھی نے غسل اور کفن دیا اور سخی حسن قبرستان کراچی میں دفنایا گیا۔ ایک کمیونسٹ لیڈر کوایک لاوارث کی طرح دفن کردیا گیا۔

دوران تفتیش مجھے معلوم نہیں تھا کہ کون کون گرفتار ہوا ہے؟ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اگست کے شروع میں ایک دن کچھ فوجی افسران آئے اورانہوں نے میری طبیعت پوچھی اور کہا کہ ٹارچر تو نہیں ہوا ہے وغیرہ۔ مجھے بہت تعّب ہوا کہ آج اچانک ان کا لب ولہجہ اتنا نرم اور انسانیت والا کیوں ہے؟ میں اس رویے کو ڈرامہ سمجھتا رہا جو اکثر اوقات دوران تفتیش خفیہ ادارے اپناتے ہیں۔ لیکن دراصل یہ سب کچھ نذیر کی موت کے بعد ہوا تھا۔

تقریباً دو ماہ کی سخت تفتیش اور ٹارچر کے بعد جب مجھے جیل بھجوانے کے لیے ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس وقت پروفیسرجمال نقوی کو بھی لایا گیا تھا۔ پولیس گاڑی میں جیل جاتے وقت میں نے پروفیسر کو بتایا کہ حالات خاصے خراب ہیں میں نے تفتیشی افسران کے آنکھوں میں وحشی پن دیکھا ہے۔ سخت سزائیں آئیں گی۔ یہ کسی کو لٹکانا چاہ رہے ہیں۔ پروفیسر کا کہنا تھا کہ نہیں، وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ میرا یہ شبہ درست ثابت ہوا۔ انہوں نے عدالت کے ذریعے تو سخت سزا نہیں دی لیکن تشدد کے ذریعے ایک ساتھی کو مار دیا۔

نذیر نے جان کا نذرانہ دے کر بہت کچھ بچالیا تھا۔ اپنے نظریے اور پارٹی کی ساکھ کے ساتھ ساتھ ساتھیوں کو بھی، جو گرفتار تھے اور جو باہر تھے۔۔ ایک ایسی شخصیت جو اصولوں پر سودے بازی کے لیے سوچ بھی نہیں سکتی۔

nazir abbasi 670

ولی خان فوجی عدالت میں کمیونسٹوں کے ایک کیس میں بطور صفائی گواہ بیان قلمبند کرانے سے پہلے جام ساقی اور دوسرے اسیران سے بات چیت کر رہے ہیں۔ (بائیں سے) جام ساقی، ولی خان، سہیل سانگی، کمال وارثی، عابد زبیری، اور امر لال۔ جبکہ بدر ابڑو اور شبیر شر کھڑے ہوئے ہیں۔ —. فوٹو بشکریہ مصنف

وہ ایک خوش مزاج اور سریلی آواز والے نڈر انسان تھے۔ انقلابی نغموں کے علاوہ لوک گیت اور بعض فلمی گیت بھی بڑے شوق سے گاتے تھے۔’’پنجرے کے پنچھی رے تیرا درد نہ جانے کوئی‘‘ بہت اچھا گاتے تھے۔

جنرل ضیاء کی موت کے بعد بینطیر بھٹو حکومت نے ایک ادھوری کوشش کی کہ نذیر عباسی کے قتل کا مقدمہ دوبارہ کھولا جائے لیکن تب تک دنیا ہی بدل چکی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی اور اس معاملے کی مطلوبہ پیروی نہ ہونے کی وجہ سے ایک کمیونسٹ کا قتل جس کی خاصی شہادتیں موجود تھیں، ملزمان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکا۔

2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے آغاز میں بھی ایک تحریک چلی اور میڈیا میں بھی شور ہوا کہ نذیر عباسی کے قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔مگر بات آگے نہیں بڑھ سکی۔تاہم زیر الزام سابق فوجی افسر امتیاز بلا نے میڈیا میں الٹی سیدھی وضاحتیں کیں۔

نذیر عباسی ایک دیومالائی کردار بن گیا ہے جو سیاسی کارکنوں کو متاثر کرتا رہے گا۔کیونکہ عباسی نے ایک آمر سے لڑتے ہوئے ٹارچر سیل میں مرنا پسند کیا مگر نظریاتی وفاداری پر آنچ نہ آنے دی۔

Sohail Sangi is a senior journalist and activist of the leftist movement in Pakistan, presently working with the daily newspaper Dawn. He is one of the visiting faculty of the Mass Communication Department at the University of Sindh.

Sohail was born in village Janjhi of Tharparkar district in 1953. He did his M.A in English from University of Sindh Jamshoro in seventies. He was activist of left wing students organisation Sindh National Students Federation during student life.

He joined journalism in mid seventies. He was one of the pioneers of Daily Sindh News which was published under the editorship of Sheikh Aziz in 1975 and later, also worked with Daily Ibrat, Daily Safeer, Daily Awami Awaz, and Daily Kawish.

Also worked with weekly Bedari and weekly Sachai with Ali Hassan. He was founder of Daily Awami Awaz the first computerised newspaper of Sindhi language and Weekly Arsee. Sangi wrote and translated half a dozen books on different topics.

His reputation is for pioneer of resistance journalism in Sindh. Sangi was arrested in July 1980 and he along with Jam Saqi, Prof Jamal Naqvi, Badar Abro, Kamal Warsi and Shabbir Shar was tried by Special Military court in 1982-83 for bringing socialist revolution in Pakistan. He was declared Prisoner of Conscience by Amnesty International in 1984. Later was released in 1985. After his release he joined Daily Aftab Hyderabad edited by veteran journalist Shaikh Ali Mohammed.

Apart from other contribution, he brought progressive activists in Sindhi media which changed the colour and flavour of this media.

He had been freelance contributor of BBC Urdu.

In Advance EID MUBARAK to Muslims all over the world

May God send his Love like Sunshine in his warm and gentle ways to fill every corner of your Heart and filled your Life with a lot of Happiness like every EID DAY. Wishing you EID MUBARAK.

About Eid-al-Fitr

Muslims across the globe celebrates Eid-al-Fitr after the holy month of Ramadan. The word Eid means “festivity” or “celebration,” while fitr means “ to break the fast” as per the Arabic dialect. After a month of fasting during the holy month of Ramadan, Muslims all over the world celebrate Eid-al-Fitr that mark the end of the 29th or 30th days fasting and farewell to the Ramadan month which, in Islam, is the most blessed and valuable of all the months. It won’t be wrong to say that the spirit of Eid lies in the beautiful traditions and thoughtful customs followed religiously by the Muslims all over the world. Eid al-Fitr has a particular Salat (Islamic prayer) and after offering Salat they hug and say EID MUBARAK to each other and during Eid, Muslims give gifts to their near and dear ones, wear new cloths, and donate to the needy and poor. All Muslims in this auspicious day greet and hug each other in the spirit of peace and love.

Eid mubarak 700x300

Karol Aida Cariola Oliva – General Secretary of the Chiles Young Communists.

General Secretary of the Chiles Young Communists, Karol Aida Cariola Oliva, wins with a great majority the primary elections of the district 19. We salute to all people who participated in this democratic process. In November, we will defeat the right and we build a New Majority to create the changes that the Chilean people demands.

Nuestra secretaria general Karol Aida Cariola Oliva ganó, por amplia mayoría, las primarias del distrito 19. Saludamos a todos quienes participaron de este proceso democrático. ¡En Noviembre derrotaremos a la derecha y construiremos una Nueva Mayoría para generar los cambios que el pueblo exige!

996534_616030721763286_658544473_n

Altaf Hussain, the notorious MQM leader who swapped Pakistan for London

Altaf Hussain lives in London but leads Pakistan’s powerful, controversial MQM party, which has millions of supporters. He has also been accused of inciting murder and violence in his home country Continue reading

Who was the First Missing Person in Pakistan?

The first missing person in Pakistan was the Communist Party of Pakistan (CPP) Secretary General Hasan Nasir, who was picked up by the military agency on the instructions of Field Marshal General Ayub Khan in 1962 and was murdered after torture in Shahi Qila and his body was neither handed over to his relative nor to CPP. When ever CPP comes into power, we will try late General Ayub Khan for this heinous crime. Long live Hasan Nasir, says CPP Chairman, Engineer Jameel Ahmad Malik.

Issued by:
Press Media of CPP: Communist Party Secretariat, 1426-Fateh Jang Road, Attock Cantt.
Tel: 057-2611426 Fax: 057-2612591 Mob: 0300-9543331 Web: www.cpp.net.pk

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/25-07-2013/details.aspx?id=p8_32.jpg

How many Mother of the Nation will die waiting for a glimpse of their sons…!!!

p8_32

 

Aaj With Reham Khan (16th July 2013) Kia Article 6 Musharraf Par Laago Hoga.

http://www.pakistantv.tv/2013/07/16/aaj-reham-khan-16th-july-2013-kia-article-6-musharraf-par-laago-hoga/#sthash.TiNrd7i7.IIOLSEve.dpbs

Reham Khan! I have watched your whole programme with Babar Awan and Hamid Mir. It was the Communist Party of Pakistan (CPP), who filed the first Constitutional Petition on 7th Sept 2009 under Article 6 for trial of Gen. Musharraf along with others 481 persons and the names of all are available on the petition, which copy is available on our party website http://www.cpp.net.pk/article-6-case/

The other petitions on this matter was filed in April, 2013 and they only want trial of Musharraf alone but our party wants trial of all those, who were named in our petition as Respondents as per Article 6 of the Constitution but surprisingly neither you nor anybody else except Mehar Bukhari and Mujahid Beravali, none bothers to take our point of view as to why our party wants that 481 persons named in our petition to be trialed with Gen. Musharraf in the interest of justice and as per Article 6. From: CPP Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik, Mob: 0300-9543331 www.cpp.net.pk

CPP Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik on twitter.

I started using twitter as EngineerJameelMalik @chairmanofCPP and my twitter accounts is https://twitter.com/chairmanofCPP It is for the information of all my fb friends, who are using twitter as well.
EngineerJameelMalik (chairmanofCPP) on Twitter
twitter.com
The latest from EngineerJameelMalik (@chairmanofCPP). Engineer Jameel Ahmad Malik, a leftist and progressive politician joined Communist Party of Pakistan (CPP) during his student life in year 1970 and till date he is an activist member and Central Chairman of the Communist Party of Pakistan. For details see http://en.wikipedia.org/wiki/Jameel_Ahmad_Malik and https://twitter.com/chairmanofCPP