Fahmida Riaz interview with the Express News!

کچھ اقدامات ہمارے ہاں صرف فوجی ڈکٹیٹرکرسکتے ہیں ، فہمیدہ ریاض – ایکسپریس اردو

http://www.express.pk/story/436654/

اقبال خورشید / اشرف میمن اتوار 24 جنوری 2016
436654-FEHMIDARIAZ-1453391870-222-640x480

برصغیر کی ممتاز شاعرہ، ادیب اور دانش وَر، فہمیدہ ریاض سے خصوصی مکالمہ ۔ فوٹو : فائل

آئیں، ایک سچی قلم کار سے ملتے ہیں۔
کھری قلم کار، جو خوف اور یاسیت کی تاریکی میں غیرجانب دار نہیں رہی، ظلم کے شور میں چپ کی زنجیر نہیں پہنی، سمجھوتا نہیں کیا، جس فکر کو سچ جانا، اُسے مشعل راہ بنایا، اپنے الفاظ سے دیے روشن کیے۔ ہاں، اس راہ میں تکالیف آئیں، کڑی تنقید ہوئی، جلا وطنی سہی۔ خود کو یہ کہہ کر تسلی دی:

زندگی سے آدمی کی دوستی ممکن نہیں
آدمی سے اِس قدر، مختلف ہے زندگی

مگر سپر نہیں ڈالے۔ مشکلات سہہ لیں۔ سفر جاری رکھا۔ ہنستے ہنستے کہا: ’’جب غربت، ذہانت اور علم اکٹھے ہوں، تب ہی مارکسسٹ بنتا ہے!‘‘

آپ انھیں اپنی تہذیب کا، گنگا جمنی تہذیب کا حقیقی نمایندہ کہہ سکتے ہیں۔ ایسا نمایندہ، جس نے اس تہذیب کو توسیع دی، جس کی دانش نے سندھ میں پیدا ہونے والی لسانی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی، دیگر زبانوں سے اردو کا فطری رشتہ قائم کرنے پر زور دیا۔ جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے، اس کے لیے الگ دفتر درکار۔ اتنا کہنا کافی ہے کہ تقسیم کے بعد کی اردو شاعری کا تذکرہ ان کے بنا ادھورا۔ اُن موضوعات پر لکھا، جو شجر ممنوعہ تصور کیے جاتے تھے۔ مشرقی عورت ان کا بنیادی موضوع۔ ایسی عورت، جو آج کے زمانوں میں سانس لے رہی ہے۔

اگر آپ فہمیدہ ریاض کو Living legend کہتے ہیں، تو غلط نہیں ہوگا۔ نظم ہو یا نثر، ان کے قلم سے نکلی ہر تخلیق نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ انگریزی اور سندھی؛ دونوں پر عبور۔ تراجم کے میدان میں بھی بڑی خدمات ہیں۔ البتہ ستایش سے زیادہ یہ تنازعات تھے جنھوں نے انھیں گھیرے رکھا، حکومتوں کو جو ادیب ناپسندیدہ رہے۔

ان میں فہمیدہ صاحبہ کا نام بھی شامل۔ اسی باعث جب اُنھیں اکادمی ادبیات کا سب سے بڑا اعزاز ’’کمال فن ایوارڈ‘‘ دینے کا اعلان ہوا، تو من میں کئی سوالات کا جنم ہوا، جنھیں لیے ایک نکھری صبح ہم آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے دفتر پہنچ گئے۔ سیکیوریٹی چیکنگ کے مراحل سے گزر کر ان سے ملے۔ ان کی مسکراہٹ نے خوش آمدید کہا۔ مکالمہ شروع ہوا۔ چلیں، آپ بھی اِس گفت گو میں شامل ہوجائیں:

ایکسپریس: میاں نوازشریف کے پہلے دورحکومت میں آپ کو غیرملکی ایجنٹ قرار دیا گیا، پاسپورٹ ضبط ہوا، اب اُن ہی کے دور میں کمال فن ایوارڈ مل رہا ہے، تو کیا حکم راں طبقے کی فکر میں کچھ تبدیلی آئی ہے یا یہ محض اتفاق ہے؟
فہمیدہ ریاض: یہ اعلان میرے لیے بھی خوش گوار حیرت کا باعث بنا۔ مجھے یہ اعزاز ادیبوں کی کمیٹی کی جانب سے دیا گیا ہے۔ وہ ادیب، جو وقار رکھتے ہیں۔ پھر بھی، میرے خیال میں یہ پاکستان میں پہلی بار ہوا ہے۔

عام خیال ہے کہ اعزازات میرٹ کی بنیاد پر نہیں دیے جاتے، اس کے لیے ادیب کو بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے۔ مجھے نہ تو اِس کی خبر تھی، نہ ہی امید تھی، نہ ہی کبھی اس کے لیے کوشش کی۔ پھر مجھے یہ ایوارڈ کیسے ملا؟ اس کا مطلب ہے کہ تبدیلی آئی ہے۔ مجھے یہ ایوارڈ نوازشریف صاحب کے دور حکومت میں دیا جارہا ہے۔ یہ خوش آیند تبدیلی ہے، بہ شرطے کہ یہ تبدیلی ہو۔ (ہنستے ہوئے) ممکن ہے، محض اتفاق ہو۔ خیر، ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکم راں طبقے کے اندازفکر میں تبدیلی آرہی ہے۔ اور یہ مثبت ہے۔ اس کا سبب شاید یہ ہے کہ انھیں ماضی کی پالیسیوں کا شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ چیزیں قابو سے باہر ہوگئیں۔

ایکسپریس: ادیب کو ایوارڈ تو ملتا ہے، مگر رائلٹی نہیں ملتی۔ احمد فراز جیسے شاعروں اور ادیبوں کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ یہ کیا معاملہ ہے؟
فہمیدہ ریاض: یہ تو بالکل سچ ہے۔ احمد فراز بہت مقبول آدمی تھے۔ ان کی کتابیں فروخت ہوتی تھیں، مگر رائلٹی کے لیے جو ذہانت اور توانائی درکار ہوتی ہے، وہ بھی اپنے اندر رکھتے تھے۔ ہر ادیب کا یہ معاملہ نہیں۔ قرۃ العین حیدر کا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ آج بھی فروخت ہورہا ہے، مگر انھیں کسی قسم کی رائلٹی نہیں ملی۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ وہ ہندوستان میں تھیں، اور ناول پاکستان میں شایع ہو رہا ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ پبلشنگ بڑی افراتفری والی انڈسٹری ہے۔ کسی قسم کے اصول نہیں ہیں۔ سب اپنی مرضی چلاتے ہیں۔ حکومت بھی اُن پر توجہ نہیں دیتی۔ اس کا نقصان ادیب کو اٹھانا پڑتا ہے۔

ایکسپریس: رائلٹی کے معاملے میں آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
فہمیدہ ریاض: مجھے بیش تر کتابوں کی رائلٹی نہیں ملی۔ ہاں، کچھ رقم کبھی کبھی ادا کی گئی۔ مگر میرے لیے یہ پریشانی کی بات نہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ میری کتابیں زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ شاید کچھ فروخت ہوئی بھی ہوں، مگر اس بات کا تعین کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔

ایکسپریس: کہا جاتا ہے، آزادی اظہار پر آج بھی قدغن ہے، کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
فہمیدہ ریاض: موجودہ صحافت میں سینسر شپ بھی ہے، اور سیلف سینسر شپ بھی۔ البتہ انگریزی پریس اور اردو پریس میں تھوڑا فرق ہے۔ آج انگریزی پریس زیادہ آزاد ہے۔ صورت حال ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔

ہمارے زمانے میں اردو پریس آزادی اظہار کی علامت تھا۔ اردو کے کئی بڑے اخبارات تھے۔ پروگریسیو لکھنے والے تھے۔ انگریزی پبلی کیشنز خاصی کم تھیں۔ بعد میں ایک زمانہ آیا، جب انگریزی اخبار نکلنے لگے۔ نئے لوگ آئے، رجحانات بدلے۔ اِس وقت انگریزی پریس میں لکھنے والے نسبتاً آزادی کے ساتھ اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

412

ایکسپریس: سیلف سینسر شپ کے پیچھے خوف کا عنصر ہے یا ذمے داری کا؟
فہمیدہ ریاض: ذمے داری تو ہوتی ہے، مگر خوف کا بھی عنصر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اردو پریس میں آنے والے مستقبل میں کیا لکھتے ہیں۔ امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ایکسپریس: آپ سوشل میڈیا پر خاصی متحرک ہیں، بے لاگ رائے دیتی ہیں، کیا اِسے متوازی ذرایع ابلاغ کے طور پر دیکھتی ہیں؟
فہمیدہ ریاض: (ہنستے ہوئے) ہاں، فیس بک پر میں خاصا وقت گزارتی ہوں، ایک معنوں میں ورچول ورلڈ میں زندہ ہوں۔ بہت عرصے سے فیس بک پر ہوں۔ وہاں آپ بولڈ انداز میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ رسک کا عنصر تو ہوتا ہے، مگر رائے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ آپ کا اپنا ہوتا ہے۔ اخبار میں ایسا نہیں۔ آپ رسک لے کر اپنی رائے تو دے سکتے ہیں، مگر ایڈیٹر چاہے تو اسے روک لے۔ یہاں فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔ تو یہ متوازی میڈیا کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔

ایکسپریس: گذشتہ ایک عشرے سے ہم دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ البتہ 2015 میں ریاستی اقدامات کے بعد کچھ بہتری نظر آئی، اس پر آپ کی رائے کیا ہے؟
فہمیدہ ریاض: بالکل بہتری آئی ہے۔ میں اسے سراہتی ہوں۔ اور اسے سراہنا بھی چاہیے۔ پرویر مشرف کی بھی اِسی وجہ سے تعریف کرتی تھی۔ ہمارے ہاں ان کے متعارف کردہ Enlightened Modernism پر بے طرح تنقید کی گئی، مگر حقیقتاً ہمیں اس کی ضرورت تھی۔ انھوں نے پاکستان میں پرفارمنگ آرٹ کی تجدید کی۔ ضیاء الحق کے پاکستان میں ایسا کرنا بڑی دلیری کا کام تھا۔ انھوں نے شیعہ سنی کی خلیج کو پاٹنے اور خفیہ اداروں کو سینٹرل کنٹرول میں لانے کی کوشش کی، جو افغان وار کے بعد آزاد حیثیت میں کام کر رہے تھے۔ لبرل دوستوں نے مشرف کی تعریف کرنے پر ہمیشہ مجھ پر کڑی تنقید کی، شاید اسی وجہ سے جنرل راحیل شریف کی کھل کر تعریف کرنے میں کچھ جھجک محسوس کرتی ہوں، مگر ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ سربراہاں کے مثبت فیصلوں سے فرق پڑتا ہے۔

ایکسپریس: پاکستانی لبرلز ایک آمر (پرویز مشرف) کو سراہتے ہوئے شاید خود کو متذبذب محسوس کرتے ہوں؟
فہمیدہ ریاض: (ہنستے ہوئے) آپ اس عمل کی تعریف کریں، جو معاشرے کے لیے اچھا ہے۔ آپ ایک منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں، تو جو بھی آپ کو منزل کی سمت لے جائے، اسے سراہنا چاہیے۔ تنقید کرنے والوں کا تمام تر زور طریقۂ کار پر ہے۔ وہ کہتے ہیں، اسے منتخب شخص ہونا چاہیے۔ بے شک ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والا شخص عوام کا منتخب کردہ ہونا چاہیے۔ البتہ اگر ایسا نہیں ہے، لیکن وہ ملک کو صحیح سمت لے کر جارہا ہے، تو قابل تعریف ہے۔

آپ کو سمجھنا ہوگا، کچھ اقدامات ہمارے ہاں صرف فوجی ڈکٹیٹر کرسکتے ہیں، کیوں کہ فوج کے ادارے مضبوط ہیں، ایک عرصے تک اقتدار میں رہے، جڑیں رکھتے ہیں۔ جو اصلاحات پرویز مشرف نے کیں، جیسے معاشرے کو لبرل بنانے کی کوشش کی، اگر یہی کام بے نظیر بھٹو نے کیا ہوتا، تو بھیڑیوں کا ایک غول ان پر جھپٹ پڑتا۔

ایکسپریس: پاک و ہند کے جمہوری نظام کو اس طرح بیان کرتے ہوئے آپ اُس طبقے کی فکر کے قریب معلوم ہوتی ہیں، جو کہتا ہے، یہاں مغربی جمہوری نظام نہیں چل سکتا!
فہمیدہ ریاض: نہیں، ایسا نہیں ہے۔ ہمیں فوراً نتائج پر نہیں پہنچنا چاہیے۔ میں کہتی ہوں، آپ مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے بہتری کی سمت بڑھیں۔ بھٹو صاحب عوامی طاقت کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، مگر کیا وہ ڈکٹیٹر نہیں تھے؟ بالکل تھے۔ یعنی آپ کو منتخب ڈکٹیٹر بھی ملے (قہقہہ!)، مگر اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ اُن کی شخصیت کے اچھے پہلو نہیں تھے۔ ہم ان کی تعریف کرتے ہیں۔ اور بھٹو صاحب کے مانند اگر کوئی اور اچھا کام کرتا ہے، تو اُس کی بھی تعریف کرنی چاہیے۔

ایکسپریس: شدت پسندی سے نجات کے لیے ہمیں کیا ٹول استعمال کرنے ہوں گے؟
فہمیدہ ریاض: کوئی ایسا شخص ہونا چاہیے، ایسی قوت ہونی چاہیے، جو ان کا مقابلہ کرسکے۔ آپ شہر کی دیواریں دیکھیں، اُن پر کس قسم کے انتہاپسندانہ نعرے لکھے ہوئے ہیں۔ ہم اس کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔ اگر کوئی جوابی نعرہ نہیں لکھتا، تو کم از کم انھیں مٹا تو سکتا ہے۔ تو کیا ریاست ان لوگوں سے نمنٹے کے لیے سنجیدہ ہے، جو ہمارے ملک اور معاشرے کو انتشار کی طرف دھکیل رہے ہیں!

ایکسپریس: کیا تعلیم اس ضمن میں کردار ادا کرسکتی ہے؟
فہمیدہ ریاض: بے شک تعلیم کا کردار ہے۔ ہمیں اسکولوں اور کالجوں میں بہتری کی ضرورت ہے، لیکن جب ہم شدت پسندی کی بات کرتے ہیں، تو یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ ہم نے ایسی فکر عام کرنے کی اجازت ہی کیوں دی، جو ہمارے Social Fabric کے لیے مضر تھی۔

ایکسپریس: روشن خیال حلقوں پر الزام لگتا ہے کہ وہ معروضی حالات کا ادراک نہیں کر سکے؟
فہمیدہ ریاض: ایک سے زاید بار ایسا ہوا۔ کبھی کبھار مجھے لگتا ہے، انھیں اس بگاڑ کی گہرائی کا اندازہ نہیں۔ کئی بار انھوں نے قومی اداروں کی صلاحیت کو overestimate کیا۔ ہم بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔

ہمیں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، جو پاکستان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، چاہے ان کا تعلق فوج سے ہو۔ سوچیے، کیا ان عسکریت پسندوں کا، شدت پسندوں کا مقابلہ آپ اور میں کرسکتے ہیں؟ ہمارے پاس تو غلیل بھی نہیں۔ یہ ہتھیار کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ ان کا مقابلہ تو فوج ہی کرسکتی ہے۔ تو جب وہ ان قوتوں سے لڑتی ہے، تو میں انھیں سراہنے میں خود کو حق بہ جانب پاتی ہوں۔
سوال: آپ کے دور نوجوانی میں نوآبادیاتی نظام سے آزاد ہونے والی دنیا کی آنکھوں میں کمیونسٹ انقلاب کی آرزو تھی، کچھ حلقوں کا موقف ہے کہ ترقی پزیر ممالک میں شدت پسندی کی تازہ شکل اسی کا تسلسل ہے؟
فہمیدہ ریاض: پاکستان کے کچھ حصے، بالخصوص خیبر پختون خوا کے علاقے مذہبی انتہاپسندی کی جانب مائل ہوئے ہیں۔ یہ انتہاپسندی تہذیب کو تباہ کر رہی ہے۔ میں نہیں سمجھتی کہ کمیونسٹوں نے اُن سے ہاتھ ملا لیا ہے یا وہ مذہبی انتہاپسندی کی جانب مائل ہوگئے ہیں۔ بائیں بازو کو ایک طرف دھکیل دیا گیا۔

لوگ کہتے ہیں، وہ اب بے معنی ہوگئے ہیں، مگر میں اپنی نظموں میں بھی کہتی ہوں، آج بھی دنیا میں جو جدوجہد ہورہی ہے، وہ The Haves and the Have Nots کے درمیان ہے، ہاں اِس کا انداز الگ ہے، لوگ الگ ہیں۔ یہ بھی پیش نظر رہے، انقلابی تحریک کا مقصد تہذیب کو تباہ کرنا نہیں ہوتا۔ ہمیں تہذیب ہی نے حیوان سے انسان بنایا۔ روس اور باقی ممالک میں آنے والے انقلاب نے ایسی کسی شے کو پیدا نہیں کیا، جو تہذیب کا خاتمہ کر دے، تمدن کو مٹا دے، بربریت کو رائج کردے۔ سوشلزم انسانی حقوق کی سمت اٹھنے والا قدم تھا، مذہبی شدت پسندی تہذیب کے خاتمے کا سفر ہے۔

ایکسپریس: پہلے لوگ خود کو کسی فکر کے حوالے سے شناخت کرتے تھے، اب ایسا نہیں رہا، فکری زوال کی سی کیفیت ہے!
فہمیدہ ریاض: اس کی ایک وجہ inflation (منہگائی) ہوسکتی ہے۔ روزمرہ کے مسائل میں انسان اتنا الجھ گیا ہے کہ نظریہ ایک پرتعیش شے بن گیا، کم از کم لوگ تو یہی سمجھتے ہیں۔ مگر یہ لوگ کہیں نہ کہیں خود کو نظریات کے ساتھ شناخت بھی کرتے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ خود کو مذہبی کہتا ہے۔

ایکسپریس: کیا ادب کو نظریے کا پابند ہونا چاہیے؟ کہا جاتا ہے، ترقی پسند ادب کی تحریک ختم ہو چکی ہے!
فہمیدہ ریاض: حقیقی ادب ازخود نظریہ کا پابند ہوجاتا ہے، چاہے آپ شعوری کوشش کریں، یا نہ کریں۔ بنیادی نظریہ، انصاف کا نظریہ ہے۔ وہ ہی Driving Force ہے۔ یہ بحث اب پرانی ہوچکی ہے۔ میرے خیال میں ہر طرح کا ادب نظریاتی ہوتا ہے۔

ایکسپریس: آپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا، جو پروگریسیو رائٹر نہیں تھے، وہ اردو کو بڑا ادب نہیں دے سکے!
فہمیدہ ریاض: میرا یہ موقف ہے کہ اردو کی حد تک پروگریسیو رائٹرز نے بہترین ادب تخلیق کیا۔ فیض جیسا تو کوئی نہیں۔ ہندی میں یہی صورت حال ہے۔ پریم چند سے اچھا کس نے لکھا ہوگا۔ پھر سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدرہیں۔ اگرچہ انھیں پروگریسیو رائٹرز کی فہرست سے نکال دیا گیا، یہ ترقی پسندوں کی بہت بڑی غلطی تھی۔ وہ پروگریسیو رائٹر تھے۔ خود میرے ساتھ یہی ہوا۔ اس حلقے نے کبھی مجھے پروگریسیو رائٹر کے طور پر قبول نہیں کیا، وہ میرے دوسرے مجموعے (بدن دریدہ) پر اعتراضات اٹھاتے رہے۔ بے شک انھیں اپنی فکر میں توسیع کرنی چاہیے تھی۔ حُسن تخلیق کرنا اپنے آپ میں ایک پروگریسیو عمل ہے۔

ایکسپریس: بعد میں جو تحاریک آئیں، جو ادیب آئے، کیا انھوں نے اچھا ادب نہیں لکھا؟
فہمیدہ ریاض: آپ مجھے کچھ مثالیں دیں۔ آپ انتظار حسین کا نام لیں گے۔ انھوں نے ابتدا میں پروگریسیو رائٹرز پر شدید تنقید کی، مگر بعد میں ان کی اپروچ تبدیل ہوئی۔ ان کی بعد کی تحریریں سماجی اور سیاسی حالات پر ایک تبصرہ بنتی چلی گئیں۔

ایکسپریس : ’’بدن دریدہ‘‘ پر جو اعتراضات ہوئے، اس کا سبب کیا آپ کا عورت ہونا تھا؟
فہمیدہ ریاض: ہاں، اگر میں مرد ہوتی، تو اس شاعری پر مجھے اس طرح تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ (ہنستے ہوئے) مگر میں ایک عورت ہوں۔ یہ شاعری اُن کے لیے نئی تھی، انھوں نے کڑی تنقید کی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ خواتین کے ساتھ کیا صورت حال ہے۔ پہلے میں خود کو فقط مارکسسٹ کہتی تھی، میں نے ایک مضمون میں بھی اس کا تذکرہ کیا کہ کس طرح اس تجربے نے مجھے نسائیت کی تحریک سے آگہی بخشی۔ اس کی ضرورت آشکار کی۔

ایکسپریس: یہ مجموعہ 70 کے عشرے میں آیا، یوں لگتا ہے کہ وقت آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی سمت گیا ہے، آج کی شاعرات کے لیے ان موضوعات پر لکھنا ممکن نہیں، جن پر آپ نے لکھا؟
فہمیدہ ریاض: بالکل، اس میں کیا شک ہے۔ بہت بڑا رول بیک ہوا ہے۔ ضیاء الحق کا دور ہمیں گھسیٹتے ہوئے پیچھے لے گیا ہے۔ جو باتیں ادب میں پہلے کہی گئی ہیں، اب انھیں کہنا زیادہ مشکل معلوم ہوتا ہے۔

ایکسپریس: اردو شاعری کس سمت جارہی ہے، کیا نظم کا رجحان بڑھا ہے یا غزل اب بھی غالب ہے؟
فہمیدہ ریاض: میں نے پوری ایک تحریک چلائی تھی کہ غزل بہت ازکار رفتہ صنف ہوگئی ہے۔ مگر شاید وہ اتنی درست نہیں تھی۔ غزل کے جانے کے آثار نظر نہیں آرہے۔ لوگ لکھ رہے ہیں۔ البتہ آج کی غزل کا اس کلاسیکل غزل سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلے صنائع بدائع، تضاد کی صنعت استعمال ہوتی تھی۔ پھر اس کے پیچھے تصوف بھی تھا۔

تصوف نے غزل کو بنایا اور غزل نے تصوف کو آگے بڑھایا، لیکن ان عوامل سے موجودہ غزل گو شعرا کا کوئی تعلق نہیں۔ تصوف کا مقصد خدا کی تلاش تھی، مگر اب تو خدا لوگوں کے لیے ایک Established fact ہے۔ تو تلاش کوئی نہیں کرتا۔ عشق کے مضامین بھی نہیں لکھے جارہے، کیوں کہ وہ غیراخلاقی سمجھے جاتے ہیں۔ جدید غزل کے نام پر لکھا ضرور گیا، مگر اس میں وہ بات نہیں۔ البتہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اچھی شاعری نہیں ہورہی۔ کبھی کبھی تو بہت اچھے اشعار نظر آجاتے ہیں، لیکن میں پھر کہوں گی کہ نظم اپنی ہر شکل میں انسان کے جذبات، احساسات اور فکر کا بہتر اور موثر ذریعہ ہے۔

ایکسپریس: آپ نے بھی نثری نظم کا تجربہ کیا، اسے کیسے دیکھتی ہیں؟
فہمیدہ ریاض: بالکل، میں نے بھی یہ تجربہ کیا۔ اب بھی لکھتی ہوں، مگر عادتاً، زیادہ رجحان پابند نظموں کی جانب ہے۔ نثری شاعری میں جس طرح الفاظ کا استعمال ہے، کیسے ایک مصرعے کو ختم کیا جائے، دوسرا شروع کیا جائے، یہ عنصر اسے شعریت عطا کرتا ہے۔ پھر جو کہا جارہا ہے، اس میں کوئی بات ہے یا نہیں، یہ بھی اہم ہے۔ نثری نظم پر ان سب اصولوں کا اطلاق ہوتا ہے، جو دوسری شاعری کے لیے اہم ہیں۔

ایکسپریس: آپ کی سندھی شعر و ادب پر گہری نظر ہے۔ کیا سبب ہے کہ ایک ہی صوبہ ہونے کے باوجود سندھی اور اردو قلم کاروں میں فاصلہ دکھائی دیتا ہے؟
فہمیدہ ریاض: ایک سبب تو یہ ہے کہ اردو والے سندھی نہیں جانتے۔ انھیں سندھی سیکھنی چاہیے تھی، تاکہ وہ سمجھ سکتے کہ سندھیوں کے کیا جذبات اور احساسات ہیں، تاکہ وہ سمجھ سکتے کہ وہ ہم جیسے ہی ہیں۔ جب لسانی فسادات ہورہے تھے، تب سندھیوں کا موقف تھا کہ سندھی کو صوبے کی سرکاری زبان بنایا جائے۔ کیا وہ غلط کہہ رہے تھے؟ اگر یہ سندھ کی سرکاری زبان نہیں بنے گی، تو کہاں کی بنے گی؟ اس وقت بھی جب وہ (سندھی) اردو والوں سے ناراض تھے، تب بھی کرشن چندر، منٹو اور قرۃ العین حیدر کو تو پڑھتے تھے۔

ایکسپریس: ایک حلقے کا خیال ہے کہ اردو بولنے والوں کے احساس تفاخر نے بھی بگاڑ پیدا کیا؟
فہمیدہ ریاض: نہیں ایسا کچھ نہیں۔ یہ خلیج اردو بولنے والوں نے پیدا نہیں کی۔ ایوب خان کا مارشل لا لگا، تب میں آٹھویں کلاس میں تھی۔ اس وقت سندھی کو ختم کیا گیا، ون یونٹ بن گیا۔ یہ اردو والوں کا فیصلہ نہیں تھا۔ ریاست جن کے ہاتھ میں تھی، ان کا فیصلہ تھا۔ اس کا شکار سب ہوئے۔ البتہ اردو بولنے والوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچ رہا تھا، اس لیے وہ چپ رہے۔ یہ ان کی کم اندیشی تھی۔

ایکسپریس: آپ کے لکھنے کا ڈھب کیا ہے، صبح لکھتی ہیں یا شام، میز پر بیٹھ کر کاغذ پر لکھتی ہیں یا کمپیوٹر پر؟
فہمیدہ ریاض: انتہائی حیرت کی بات ہے کہ اب میں کمپیوٹر پر لکھنے لگی ہوں۔ اب وہ دست یاب ہے۔ کب لکھتی ہوں؟ کسی بھی وقت۔

ایکسپریس: آپ نے کسی جگہ کہا تھا کہ ایک نظم آپ نے رکشے میں بیٹھ کر لکھی تھی؟
فہمیدہ ریاض: (ہنستے ہوئے) بالکل، ایک نظم میں نے رکشے میں سفر کرتے ہوئے لکھی تھی۔ اتفاق سے میرے پاس کاپی تھی، تو میں نے لکھ لی۔ ڈسپلن نہیں ہے زندگی میں۔ اگر ہوتا، تو زیادہ بہتر تھا۔ اب بھی ہوجائے، اگر زندگی کچھ باقی ہے۔

ایکسپریس: من پسند ادیب اور شعرا؟
فہمیدہ ریاض: آپ یہ سوال کرکے رائٹر کو بہت مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ سچی بات ہے، اگر میں کسی کا نام نہ لوں، تو وہ ناراض ہوجائے گا۔

ایکسپریس: ہم عصروں کو رہنے دیں، اپنے سنیئرز کا نام لے دیں!
فہمیدہ ریاض: جیسے فیض صاحب۔ جیسے شیخ ایاز۔ اب بھی نظر پڑ جائے ان کے کلام پر تو انسان مسرور ہوجاتا ہے۔ فکشن میں قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، کرشن چندر۔ انگریزی کے بہت سے شاعر ہیں۔ اب شیکسپیئر کتنا بڑا نام ہے۔ لوگ کلیشے کہتے ہیں، مگر سچ بات ہے کہ آپ آج بھی شیکسپیئر کو پڑھ کو مبہوت رہ جاتے ہیں۔

ابھی میں The Seven Ages of Man پڑھ رہی تھی۔ اپنے بارے سوچ رہی تھی کہ یہ کتنا سچ ہے، اس کی ابتدائی دو Ages مجھے اپنے نواسوں میں نظر آتی ہے۔ پھر وہ Age ہے، جس میں آپ لڑ رہے ہوتے ہیں، پھر عشق کرتے ہیں، پھر سوچ بچار کی Age آتی ہے۔ جتنا سوچ بچار میں اب کرنے لگی ہوں، اتنی پہلی نہیں کرتی تھی۔ تو سیکسپیئرنے سچ لکھا۔ میرا دل چاہتا ہے، عورت کی عمر کے سات ادوار بھی لکھوں۔

ایکسپریس: اب توجہ شاعری سے زیادہ نثر پر مرکوز ہے؟
فہمیدہ ریاض: یہ سچ ہے۔ سبب شاید یہ ہو کہ یہ بھی The Seven Ages of Man میں ایک Age ہے۔

ایکسپریس: اردو ادب میں امکانات؟
فہمیدہ ریاض: امکان تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ اردو لٹریچر میں بھی امکانات ہیں۔ اردو میں بہت اچھے میگزین نکلتے رہے ہیں۔ ہندوستان میں اردو کی تجدید ہوتی نظر آتی ہے۔ اچھے رائٹرز نظر آتے ہیں۔ مگر اردو ادب کی ترقی انگریزی سے دوری میں نہیں، قربت میں پنہاں ہے۔ اردو تخلیقات کا انگریزی میں زیادہ ترجمہ ہونا چاہیے تھا۔ انگریزی نہ جاننے کے باعث یہ ہو نہیں سکا۔ میں تو سندھی کے بارے میں بھی یہی سوچتی ہوں۔ جب کوئی اچھی تخلیق پڑھتی ہوں، تو سوچتی ہوں، اس کا انگریزی میں ترجمہ ہونا چاہیے۔ یہی معاملہ بلوچی، پشتو اور پنجابی ادب کا ہے۔

ایکسپریس: آج کل آپ ایک ناول پر کام کر رہی ہیں؟
فہمیدہ ریاض: جی ہاں، کوشش ہے کہ 2017 میں وہ چھپ جائے۔ اس کا عنوان ہے: قلعۂ فراموشی۔ یہ ایک تاریخی ناول ہے۔ یہ مزدک کی زندگی کے بارے میں ہے، جسے تاریخ کا پہلا سوشلسٹ انقلابی کہا جاتا ہے۔ وہ پانچویں صدی میں موجودہ ایران میں گزرا تھا۔ اس کے لیے خاصی تحقیق کرنی پڑی۔ آج اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے، مگر ایک ایسا قلعہ تھا، جہاں ان سیاسی قیدیوں کو رکھا جاتا تھا، جنھیں بھلانا مقصود ہو۔ ان کا نام لینا منع تھا، اس قلعے کا تذکرہ بھی منع تھا۔ اور وہ قلعہ شہر ’’اھواز‘‘ میں تھا۔

212

کتاب زندگی کا ایک ورق
فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1945 کو میرٹھ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ شعور کی آنکھ حیدرآباد، سندھ میں کھولی، جہاں اُن کے والد، ریاض الدین معروف ماہر تعلیم، نور محمد صاحب کے قائم کردہ ہائی اسکول سے وابستہ تھے۔ انھوں نے ہی اپنی بیٹی کے دل میں کتابوں سے محبت کا دیا روشن کیا۔

پانچ برس کی تھیں کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس سانحے کے بعد والدہ، حُسنہ بیگم نے، جو تعلیم یافتہ خاتون تھیں، خاندان کو سنبھالا۔ مشکلات کے باوجود اولاد کو زیورتعلیم سے آراستہ کیا۔ بچپن میں وہ تھوڑی تنہائی پسند تھیں۔ مطالعے کا شوق وراثت میں ملا۔ ہائی اسکول کے زمانے میں اُردو اور فارسی کے کلاسیکل شعراء و ادباء کا مطالعہ شروع ہوا۔ سندھی لٹریچر بھی جم کر پڑھا۔ زندگی کے نئے گوشے آشکار ہوئے۔ ریڈیو پاکستان، حیدرآباد کے لیے صداکاری کی، اسکرپٹ لکھے۔

زبیدہ گورنمنٹ کالج، حیدرآباد کے زمانے میں طلبا سیاست کی جانب مائل ہوئیں۔ ذہن لیفٹ کے نظریات سے لگا کھاتا تھا۔ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جو بعد میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ہوگئی) کے پلیٹ فورم سے ایوب مخالف تحریک میں حصہ لیا۔ یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف تقریریں بھی کیں، نظمیں بھی لکھیں۔ گریجویشن کرلیا، تو پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کرنے کے لیے سندھ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ 1967 میں شادی ہوگئی، اور لندن چلی گئیں۔

اُدھر ایک لائبریری میں کام کیا، ایک انشورنس کمپنی سے وابستہ رہیں، بی بی سی کی اردو سروس سے منسلک رہیں۔ فلم تیکنیک میں لندن سے ڈپلوما بھی کیا۔ 73ء میں واپس آئیں۔ آرلنٹاس میں کریٹیو ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ رہیں۔ ایک فارماسیوٹیکل کمپنی سے بھی جُڑی رہیں۔ پھر ادیبوں کا ایک فورم بنانے کے لیے رسالہ ’’آواز‘‘ شروع کیا۔

وہ ضیاء الحق کا دور تھا۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے ’’جرم‘‘ میں کئی مقدمات بنے۔ انھوں نے جلاوطنی اختیار کرلی، اور بھارت چلی گئیں۔ ’’آواز‘‘ بند ہوا۔ 81ء تا 87ء وہاں رہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے وابستگی رہی۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ سے جڑی رہیں۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں وہ چیئرپرسن نیشنل بک کونسل آف پاکستان اور منسٹری آف کلچر کی کنسلٹنٹ رہیں۔ 96ء میں ’’وعدہ‘‘ کے نام سے ایک این جی او بنائی۔ بعد کے برسوں میں بھی اُنھیں سیاسی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اِس وقت آکسفورڈ پبلی کیشنز سے بہ طور کنسلٹنٹ وابستہ ہیں۔

پہلی شادی ختم ہوگئی تھی۔ پہلے شوہر سے ایک بیٹی ہے، جو اب امریکا میں مقیم ہے۔ دوسری شادی سے ایک بیٹی ہے۔ ایک بیٹا تھا، جو 2007 میں ایک حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس سانحے نے گہرے اثرات مرتب کیے۔

اگست 2009 میں انھیں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

312

ادبی کہانی
بچپن سے شعر و سخن سے لگاؤ تھا۔ 15 سال کی عمر میں پہلی نظم کہی، جو ’’فنون‘‘ میں شایع ہوئی۔ بڑا حوصلہ ملا۔ بعد میں ’’فنون‘‘ میں کئی تخلیقات نے جگہ پائی۔ پابند نظمیں توجہ کا محور رہیں۔ پہلا مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ 1967 میں شایع ہوا۔

’’بدن دریدہ‘‘ دوسرا مجموعہ، جو مقبول بھی ٹھہرا، اور متنازعہ بھی۔ دیگر شعری تخلیقات ’’دھوپ‘‘، ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے‘‘، ’’ہم رکاب‘‘، ’’آدمی کی زندگی‘‘ کے زیرعنوان شایع ہوئیں۔ کلیات کا عنوان ’’سب لعل و گہر‘‘ ٹھہرا۔ تخلیقات کا انگریزی، جرمن، روسی اور فرانسیسی میں ترجمہ ہوا۔

ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد اور شیخ ایاز کے کلام کو اردو روپ دیا۔ مولانا روم کی غزلیات کے انتخاب کا منظوم ترجمہ کیا ہے۔ فرید الدین عطار کی کتاب منطق الطیر کو انگریزی میں ڈھالا۔ شیخ سعدی اور بھٹائی کے کلام کا بھی انگریزی میں ترجمہ کرچکی ہیں۔ فکشن بھی لکھا۔ کتاب ’’ہم لوگ‘‘ تین نوویلا پر مشتمل، جو برصغیر کی نصف صدی پر محیط تاریخ کے پیچ و خم بیان کرتی ہے۔ ایک مجموعے ’’خطِ مرموز‘‘ میں ابتدائی زمانے کے افسانے بھی شامل ہیں۔

ان کی کتاب ’’ادھورا آدمی‘‘ سماجی نفسیات میں فاشزم کے رجحانات اور اسباب کا احاطہ کرتی ہے۔ Erich Fromm کی The Fear of Freedom اس کی بنیاد بنی۔Pakistan: Literature and Society ان کی ایک اہم تصنیف، جو پہلے پہل ہندوستان میں چھپی۔ اس میں پاکستان کے، اردو سمیت، مقامی زبانوں میں لکھے لٹریچر کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

٭ میری شاعری پر کسی کا اثر ہے، تو شیخ ایاز کا اثر ہے!
شیخ ایاز کا بھی ترجمہ کیا۔ جب پوچھا، اس عمل میں کوئی دشواری پیش آئی، تو کہنے لگیں،’’کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ میں سندھی جانتی ہوں۔ آدھا خاندان سندھی ہے۔ شوہر بھی سندھی ہیں۔ تو بہت خوش گوار تجربہ رہا۔ اگر میری شاعری پر کسی کا اثر ہے، تو شیخ ایاز کا ہے۔ لوگوں کو اس بات کا یوں نہیں پتا کہ انھوں نے شیخ ایاز کو پڑھا ہی نہیں۔ شیخ ایاز کے ہاں نیشنلسٹ اور پروگریسیو اپروچ تھی۔ سندھ ایک مظلوم صوبہ تھا۔ پاکستان بنانے میں سب سے زیادہ کردار سندھ نے ادا کیا، مگر اسے بدلے میں کچھ نہیں ملا۔ ان کے بڑے شہروں پر وہ لوگ غالب آگئے، جو ہندوستان سے آئے تھے۔

جو جگہیں خالی ہوئی تھیں، جنھیں سندھی سمجھتے تھے کہ اب ہم بھریں گے، وہ باہر سے آنے والوں نے بھر دیں۔ یہاں تک کہ سندھی زبان ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان جذبات کو شیخ ایاز نے بڑی خوب صورتی سے پیش کیا۔ بڑی نغمگی ہے ان کے ہاں۔ ان کے ہاں تصوف نہیں۔ وہ تصوف سے لڑتے رہے ہیں۔ اپنی شاعری میں انھوں نے سندھ کے معروف شاعر، سامی سے بہت جھگڑے کیے۔ وہ پوچھتے ہیں؛ تم کیوں دنیا کو مایا کہتے ہو، دنیا مایا نہیں ہے۔ وہ صوفیوں کی فکر کے خلاف تھے۔ البتہ بھٹائی سے وہ محبت کرتے تھے، کیوں کہ بھٹائی میں آپ کو سندھ بھی دکھائی دے گا، اور خدا بھی۔‘‘

٭صوفی دنیا کی تفسیر کرتا ہے، مارکسسٹ اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتا ہے
ویسے تو عملی جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں، مگرتصوف کی جانب بھی جھکائو ہے، رومی کا بھی ترجمہ کیا، اس ضمن میں پوچھا، تو کہنے لگیں،’’دیکھیں، صوفی دنیا کی Interpretation (تفسیر) کرتا ہے، مارکسسٹ اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ایک کڑی ہے، جو انھیں جوڑتی ہے۔ جیسے صوفی شاہ عنایت کی مثال ہے، جنھوں نے ’زمین اﷲ کی‘ کہہ کر اپنی املاک ہاریوں میں بانٹ دیں۔ مڈل ایسٹ میں ایسے صوفیوں کی مثالیں ہیں، جنھوں نے سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کی ہے۔

تو صوفی اور انقلابی میں اتنا فرق نہیں، جتنا سمجھا جاتا ہے۔ مارکسزم کی بنیاد فقط یہ نہیں ہے کہ کسی کو آپ انتہائی غریب نہ ہونے دیں، یہ بھی ہے کہ کسی کو آپ انتہائی امیر نہ ہونے دیں، کیوں کہ اس کی کوئی حد نہیں۔ صوفی ازم میں جو نفس امارہ کو قابو کرنے کا تصور ہے، یہ وہی ہے۔ سوشل ازم نجی ملکیت کے خلاف ہے۔ صوفی ازم اس کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

وہ کہتا ہے، آپ کو سب چھوڑ چھاڑ کر جانا پڑے گا۔ شاہ لطیف لکھتے ہیں؛ بڑی بڑی عمارتیں بنائی گئیں، اوزار یہاں پڑے ہیں، معمار جا چکے ہیں۔ اسی طرح ان میں رہنے والے بھی چلے گئے۔ تو ان دونوں میں اپروچ کا فرق ہے۔ ایک idealist ہے، دوسرا materialist ہے۔ صوفی یہ بتاتا ہے کہ materialism اور idealism، مادہ اور خیال ایک ہی شے کے دو پہلو ہیں۔ رومی اس پر بہت لکھتے ہیں۔ اِسے ثابت کرکے دکھاتے ہیں۔

12552780_958888714195608_4606495926568836841_n

Congratulation Message of CPP to CPV on 12th National Congress at Hanoi in Vietnam!

To,
Comrade H.E. Mr. Hoang Binh Quan,
Chairman of the Central Commission for External Relations,
Communist Party of Vietnam,
IC, Hoang Van Thu, Ba Dinh, Ha Noi, Vietnam.

Dear Comrades,

On behalf of the Central Committee of the Communist Party of Pakistan (CPP) and on my behalf, we warmly wish you every success at your 12th National Congress of the Communist Party of Vietnam (CPV) which would be convened in Hanoi on 20th of January, 2016.

We Pakistani communists first of all salute the Vietnamese greatest Communist revolutionary leader Ho Chi Minh, who was Prime Minister (1945–55) and President (1945–69) of the Socialist Republic of Vietnam and to you and to all comrades present in this 12th National Congress of CPV.

Your 12th Congress is taking place at the time when our beloved country and its peoples are fighting physically against all the extreme religious fundamentalists and terrorists of the Taliban and ISIS with the help of our Armed Forces under its true and professional soldier leadership of the Chief of Army Staff General Raheel Sharif and our party fully hopes and is quite optimistic that in the coming few years, our country would get rid of these terrorist elements.

We express our heartfelt greetings to all of you and fully believe that the Vietnamese communists will continue and would evaluate 30 years of renewal and review the implementation of the Resolution of the 11th National Congress (2011-2015) and finalizing the guidelines, objectives and tasks for the next 5 years of 2016-2020 in its true Marxist perspective.

We are also confident that your congress would mark another important stage in the building of a stronger Communist Party of Vietnam and the strategy of a stronger more united world communist movement especially with the Communist Party of Pakistan. We hope and believe that the friendship between our two Parties will be further strengthened in the coming days.

With revolutionary greetings.
Sig/
(Engineer Jameel Ahmad Malik)
Central Chairman,
Communist Party of Pakistan.

Copy to:-

1. Mr. Thai Duc Khai, First Secretary,
Embassy of the Socialist Republic of Vietnam,
No. 117, Street No. 11, E-7, Islamabad.

Congratulation Message on 12th Congress of CPV by CPP.

Communist Party criticized book titled ‘Surkh Salam’ by an American Professor Kamran Asdar Ali!

Communist Party of Pakistan (CPP) and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik strongly criticized and condemned the facts distorted in the book titled ‘Surkh Salam’ authored by Professor Kamran Asdar Ali which detail was Published in Dawn, January 2nd, 2016 and reported as ‘Book on communist politics in Pakistan launched’ and the link is http://www.dawn.com/news/1230141/book-on-communist-politics-in-pakistan-launched

Interestingly all the speakers like Director of Pakistan Study Centre, the University of Karachi, Dr. Syed Jaffer Ahmed, Dr. Asif Farrukhi, who moderated the event, journalist Imran Aslam, Hoori Noorani and Piler’s Karamat Ali has nothing concern with the Marxism and nor anyone of them remained members of the Communist Party of Pakistan.

In Pakistan, where even the democratic institutions has not yet been built up till today since independence and where to say the major failure of the communist movement in Pakistan was that Marxism was taken as an engineering manual instead of science by the Communist party of Pakistan is not only distorted and wrong facts but also a frivolous and malafide one.

The book was written by an American based Professor Kamran Asdar Ali of anthropology at the University of Texas, Austin who has not written the book ‘Surkh Salam’ with positive intentions. What are the real motives behind this book, we would soon disclose with all facts in near future.

For the time being, we are making only one comment that if Muslim speaks about Hindu or Hindu speaks about Muslim, would anyone believes it as correct. Similarly, the non-Marxists if they are talking about Marxism then how can a communist or Marxist believes its truthiness. The Communist Party of Pakistan fully understand the real motives of this book that how the real history of the CPP is distorted in ‘Surkh Salam’.

5686e3443b4a6

No to Cricket yet Modi visited Pakistan. Is it diplomacy or hypocrisy says the Communist Party?

Communist Party of Pakistan (CPP) and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik have welcomed the Prime Minister of India Mr. Narendra Modi to the soil of our motherland Pakistan for a short visit on the personal residence of the Prime Minister of Pakistan Nawaz Sharif at Jati Umra near Raiwind.

No to Cricket yet Modi visited Pakistan. Is it diplomacy or hypocrisy says the Communist Party?

Modi is a well-known anti Muslim and anti Pakistan and his visit to Pakistan would bring any peace or not is difficult to predict for the time being. For the last more than sixty years, all the back door diplomacy and one on one meeting of two rulers of Pakistan and India has not yet resulted with positive results so far especially on the Kashmir dispute, the CPP Chairman vehemently stressed.

Communist Party of Pakistan is in favour of peace between India and Pakistan as peace between two countries are good for the people’s of Pakistan and India but unfortunately all the religious parties in Pakistan and all the extreme right-wing and Hindu nationalist parties are against peace process between India and Pakistan.

Even in the past Khan Ghaffar Khan and Jawaharlal Nehru family personal contacts cannot bring peace between Pakistan and India and the Chairman CPP thinks that similarly the personal family relations of Modi and Sharif family would not yield any positive results. The visit of Modi was of personal nature or a state visit; this has not been disclosed by the Foreign Ministry so far.

Modi was raised in a small town in northern Gujarat, and he completed an M.A. degree in political science from Gujarat University in Ahmadabad. He joined the pro-Hindu Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) organization in the early 1970s and set up a unit of the RSS’s students’ wing, the Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad, in his area. Modi rose steadily in the RSS hierarchy, and his association with the organization significantly benefited his subsequent political career. He remained Chief Minister of Gujarat from 2001 to 2014.

RSS is an extreme Hindu Nationalist organization which is against Muslims and Pakistan. Modi joined the Bharatiya Janata Party (BJP) in 1987, and a year later he was made the general secretary of the Gujarat branch of the party. The BJP is also a right-wing party, with close ideological and organisational links to the Hindu extreme nationalist Rashtriya Swayamsevak Sangh and other extreme Hindu nationalist parties.

Modi, an extreme Hindu nationalist and a former member of the RSS remains a controversial figure domestically and internationally, despite his claim of progressiveness.

On 26th May 2014 Narendra Modi took oath as the Prime Minister of India, becoming the first ever PM to be born after India attained Independence.

Narendra Modi is very active on social media platforms including Facebook, Twitter, Google+, Instagram, Sound Cloud, Linkedin, Weibo and other forums.
Beyond politics, Narendra Modi enjoys writing. He has authored several books, including poetry. He begins his day with yoga, which centers his body and mind and instills the power of calmness in an otherwise fast-paced routine.

CXE3dbRUEAE8Mx2CXE6hIrWcAAS0YgCXE6L4tWwAAG219CXE8HQgW8AA7c9zCXE55l3WsAAinbACXEgBDwWMAALWm9CXEXxfsUsAARNT4

Communist Party condemned curtailment of Rangers powers in Sindh!

Communist Party of Pakistan (CPP) and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik strongly condemned the resolution passed by the Provincial Assembly of Sindh which has curtailed the powers of Rangers.

This resolution was passed by the Sindh Assembly and which was not even shared with the opposition and neither a debate was allowed by the Speaker.

The curtailment of Rangers powers is just a device by the Chief Minister Qaim Ali Shah and Pakistan People’s Party (PPP) for curbing the powers of the paramilitary force, calling it an action to protect their corruption and has done just to save Dr. Asim and other corrupt leaders of PPP including Asif Ali Zardari and Faryal Talpur says the Communist Party Chairman.

The resolution as tabled by Sindh Home Minister Sohail Anwer Siyal, attached following conditions for the Rangers to stay in Sindh Home Minister Sohail Anwer Siyal in aid of civil administration and police for the next 12 months.

“The Pakistan Rangers (Sindh) will have powers to in respect of the following only: 1) target killing, 2) extortion/bhatta, 3) kidnapping for ransom and 4) sectarian killings.

“Any person who is not directly involved in terrorism and is only suspected of aiding and abetting terrorists or by way of terror financing or facilitating terrorists shall not be placed under preventive detention under any law without prior written approval of the Government of Sindh or Chief Minister.

“It is clarified that in a case a person is suspected of the above, cogent reasons with complete evidence justifying such preventive detention shall be provided to the Government of Sindh, which will be based on available evidence, approve or reject such proposal of preventive detention.

“It further said that Rangers shall not raid any office of the Government of Sindh or any other Government Authority without prior written approval of the Chief Secretary, Government of Sindh.

“The Rangers shall not assist any other institution/organization apart from Sindh police in carrying out its actions.

“This is further resolved that the Government of Sindh while grating any powers to Pakistan Rangers and Sindh Police shall take into account all of the above conditions.

CPP vehemently stressed and said that the ball is now with the Federal Government and if the Interior Ministry and Federal Government does not give those powers to Rangers through Federal legislation which are curtailed by Sindh Assembly then it is all ‘TOPI DRAMA’ between PPP and PML(N) Government. However, the Communist Party is not in favour of the Governor’s Rule in Sindh.

res-1

Putin: ISIS financed from 40 countries, including G20 members.

https://www.rt.com/news/322305-isis-financed-40-countries/

President Vladimir Putin says he’s shared Russian intelligence data on Islamic State financing with his G20 colleagues: the terrorists appear to be financed from 40 countries, including some G20 member states.

During the summit, “I provided examples based on our data on the financing of different Islamic State (IS, formerly ISIS/ISIL) units by private individuals. This money, as we have established, comes from 40 countries and, there are some of the G20 members among them,” Putin told the journalists.

Putin also spoke of the urgent need to curb the illegal oil trade by IS.

I’ve shown our colleagues photos taken from space and from aircraft which clearly demonstrate the scale of the illegal trade in oil and petroleum products,” he said.

The motorcade of refueling vehicles stretched for dozens of kilometers, so that from a height of 4,000 to 5,000 meters they stretch beyond the horizon,” Putin added, comparing the convoy to gas and oil pipeline systems.

It’s not the right time to try and figure out which country is more and which is less effective in the battle with Islamic State, as now a united international effort is needed against the terrorist group, Putin said.

http://e.jang.com.pk/11-18-2015/Karachi/page1.asp#;

01_03

indeximagesimages 2images 3

index 2

Communist Party of Pakistan statement on Paris attack.

Communist Party of Pakistan (CPP) strongly condemned the religious terrorism anywhere in world but what has happened in Paris yesterday is the outcome and double standard policy of USA and all its allied imperialist forces including France of openly and secretly supporting the ISIS against the Syrian regime of Bashar al-Assad says the CPP and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik.

12243186_923611387733286_7510869447951150552_n

CPP hails suo motu notice of Chief Justice of Pakistan!

Communist Party of Pakistan (CPP) and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik​ hails the bold decision of the Chief Justice of Pakistan Justice Anwar Zaheer Jamali for taking suo motu notice of Mustafa Kanju’s acquittal by ATC in the interest of justice.

CJ takes suo motu notice of Kanju’s acquittal by ATC

ISLAMABAD: Chief Justice of Pakistan Justice Anwar Zaheer Jamali on Friday took suo motu notice of Mustafa Kanju’s acquittal by a Lahore Anti-Terrorism Court in the Zain murder case.

SC Chief Justice Anwar Zaheer Jamali has taken notice of the acquittal and ordered the ATC to submit the whole record of the case in a sealed envelope.

Related: Zain murder case: Kanju, his guards acquitted

An anti-terrorism court on Tuesday had acquitted Mustafa Kanju, son of former state minister Siddique Kanju, and his four security guards of murder of Zain, an orphan young boy, for lack of evidence, Dawn newspaper had reported,

The prosecutor said the complainant and the witnesses were persuaded to retract their statements. He urged the court to dismiss the acquittal application of the suspects.

The court arrived at this verdict after all the 20 witnesses in Zain murder case, including the complainant and Zain’s uncle Sohail Afzal, failed to identify Kanju as the suspect who killed Zain in Cavalry Ground area.

Also read: Zain murder case: Another witness refuses to identify Kanju

Kanju’s counsel had argued that neither the complainant nor the prosecution witnesses identified his client as suspect adding that the case was registered on political grounds and prosecution had no direct evidence against his client.

ATC-I Presiding Judge Muhammad Qasim, however, allowed the application and acquitted Mustafa Kanju and his guards Sadiq, Asif, Saif and Akram.

Mustafa Kanju and six others were indicted on charges of killing a 16-year-old orphan Zain and injuring Hussain, 18, in Cavalry Ground area.

According to prosecution, Kanju was allegedly drunk when his car hit another car driven by a woman. It said Kanju got infuriated and opened fire.

Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif had taken notice of the incident, ordered the arrest of the suspect and announced Rs0.5m for the family of the deceased. He also assured them of the provision of justice.

981965-mustafakanjuunnunn-1446188459-808-640x480

Complaint to Chief Minister Punjab by CPP!

12115993_1665212043757304_3527656991544755559_n

THE GROUND REALITY OF EID FESTIVALS IN PAKISTAN SAYS CPP!

Our party deeply observations is that in our country, only the rich and upper middle class enjoys Eid Festivals whereas the middle class and poor people’s have a lot of problems on Eid Festivals.

Who so ever has made this picture but in reality it look natural in various places of Pakistan. Uptill now, we have lived in many politic systems of Generals and Politicians but none change the reality which looks in this picture below.

Our party thinks that the Socialist System has the ability to change the living standard of the middle class and poor peoples of Pakistan. The era of PPP during the premiership of Zulfiqar Ali Bhutto and Benazir Bhutto did not impose the Socialist System at all and both Bhutto’s betrayed all the progressive and leftist elements during their premiership.

This was stated by the Communist Party of Pakistan (CPP) and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik in its message on the occasion of Eid-ul-Azha to all the peoples of Pakistan, friends and party workers of CPP.

12009659_1684304091856064_7662611437978923165_n12009659_1684304091856064_7662611437978923165_n12009659_1684304091856064_7662611437978923165_n12009659_1684304091856064_7662611437978923165_n

An Abdalian and a Bravo son of Attock soil! Capt Isfandyar would be remembered for ever for his bravery says the Communist Party of Pakistan (CPP).

index

(ATTOCK – PR – September 18, 2015)       Communist Party of Pakistan (CPP) and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik strongly condemned the Taliban attack on the Pakistan Air Force (PAF) camp in Badaber Peshawar in which 29 armed forces personnel including three junior technicians Shan Ali, Saqib Javaid and Tariq Abbass were martyred and several were injured. However, it is a sign of relief that all the 13 terrorists were also killed, this was stated in a press release issued here today.

Captain Syed Isfandyar Ahmed Bokhari, who was martyred in the PAF Camp Badaber operation earlier today in the morning, was an Abdalian and the brave son of the soil of Attock.

Chairman CPP Engineer Jameel, who is also an Abdalian and Attockonian paid a very high tributes to another Abdalian and Attockonian Capt Isfandyar, though he said that he is personally too much grieved on the ‘Shahdat’ of Asfandyar and all others.

Communist Party said that Captain Asfandyar Bukhari was a brave, valiant and down to earth and Asfandyar embraced martyrdom while fighting valiantly and leading his troops from the front. He was part of Quick Response Force.

After doing his FSc from the Cadet College Hasan Abdal, he joined the Pakistan Army. He was the eldest son of a well known Dr. Fayyaz Bukhari and real nephew of Dr. Tanvir Gilani of Attock.

Asfandyar was awarded “Sword of Honour” after the completion of his training at Kakul in October 2008 and was awarded Tactics Medal as well.

He was passed out from PMA-118 long course. Asfandyar was a brilliant cadet and was awarded many awards during his cadet-ship in Cadet College, Hasan Abdal.

He also played Hockey for Punjab’s under-19 team. He remained vice captain of his college hockey team. He was chess champion at college, president of the biology club, editor of the college magazine and remained member of the board of editors for five years.

He was also wing commander of 48th Jinnah Wing Entry.

Engineer Jameel said that Asfandyar was true patriot and a person with immense passion and love for his Country.

CPP and Engineer Jameel expressed deep concern and sympathy with the families of Captain Asfandyar and all others who were martyred and injured in the attack.

It is said by ISPR that a group of gunmen wearing explosives-laden jackets and armed with hand-propelled grenades, mortars, AK-47 rifles attacked a guard post as they tried to fight their way into the Badaber air base on outskirts of Peshawar, the capital of Khyber Pakhtunkhwa province but the Pakistan Army commandos and personnel of the Pakistan Air Force and Quick Reaction Force (QRF) battled the attackers and killed all 13 terrorists of Taliban.

Engineer Jameel said that the Badaber air base is not functional and mostly being used as a residential place for the employees and officers of the air force. Peshawar has frequently been targeted by the terrorist. In December 2014, more than 150 people, mostly children were martyred when Taliban gunmen attacked an army-run school.

172.16.16asfandCPKpCKJU8AAxDwSCPLTC7cUAAA0E0pCPLTC7rUAAINqjWCPLTC71UkAAZcFqCPLTDBiUcAA8rXiimageimage 6image 7image 8images images 1images 3index 2index 4index 5172.16.16

Communist Party of Pakistan (CPP) paid high tribute to Justice Jawwad S. Khawaja!

cover

(ATTOCK – PR – September 10, 2015) The Communist Party of Pakistan (CPP) and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik paid a high tribute to Mr. Justice Jawwad S. Khawaja “as an upright and a Judge of highest integrity”, who retired yesterday midnight as the 23rd Chief Justice of Pakistan, says the press release issued here today.

Justice Jawwad S. Khawaja was sworn in as the Chief Justice of Pakistan (CJP) on Monday August 17 to serve in the exalted position for just 23 days until his retirement on Wednesday September 09, 2015.

During his short tenure as the Chief Justice of Pakistan, he has given many important judgments but the remarkable judgment by the outgoing CJP Mr. Justice Jawwad S. Khawaja was the one in which he declared Urdu as the official language of Pakistan, otherwise, this case was laying in cold storage since 2003.

“This judgment would certainly help the common men and downtrodden masses to compete with the elite and bourgeoisie classes in education and in other day to day matters of life” as stressed by the CPP Chairman Engineer Jameel.

His other important judgments which Justice Jawwad S. Khawaja delivered were in the case of Katuchi Abadi, against ex-NAB chief Admiral Fasih Bukhari for ‘favouring’ property tycoon Malik Riaz, Advocate Syed Ali Zafar and in some other land scams cases of Baluchistan, Defence Housing Authority and Bahria Town.

Communist Party of Pakistan firmly believe that all the Institutions of the Government like Supreme Court and others depend purely on the political system of the country and the present Supreme Court being part of the bourgeoisie system of our country could not play a pivotal role in providing justice to the poor and downtrodden masses of Pakistan and this fact was also admitted by Justice Jawwad S. Khawaja in his Farewell Address yesterday.

Nevertheless, the CPP has an experience of appearing before the various Judges of the Supreme Court in its Constitutional Petitions. CPP Chairman Engineer Jameel Malik has appeared daily for more than four months in one of our party High Treason case against General (Retd) Pervaz Musharraf in 2013 before the bench of Mr. Justice Jawwad S. Khawaja and our party Chairman found Mr. Justice Jawwad S. Khawaja as very hardworking, intelligent, honest, bold and upright Judge of highest integrity. Communist Party now wishes him the best of luck in his retired and future life. This was stated in concluding statement issued by the Press Media of CPP here today.

cover

Outgoing CJP Jawwad S. Khawaja makes history and ordered GOVT to adopt Urdu as official language says CPP!

The outgoing Chief Justice of Pakistan (CJP) Mr. Justice Jawwad S. Khawaja and Supreme Court of Pakistan announced its judgment on the petitions pending for adjudication since the year 2003 seeking the enforcement of Urdu as official language in Pakistan.

The Communist Party of Pakistan (CPP) and its Chairman Engineer Jameel Ahmad Malik hailed the remarkable judgment of SC and categorically said that this case was taken up by the outgoing CJP Mr. Justice Jawwad S. Khawaja, otherwise, this case was laying in cold storage since 2003. This judgment would certainly help the common men and downtrodden masses to compete with the elite and bourgeoisie in education and in other day to day matters of life.

The three-member bench of the apex court ordered the federal government to immediately introduce Urdu as country’s official language under Article 251 of the Constitution of Pakistan, 1973.

In its ruling, the bench headed by Mr. Justice Jawwad S. Khawaja and comprising Mr. Justice Dost Muhammad Khan and Mr. Justice Qazi Faez Isa, gave a nine-point directive for implementation of Urdu in Pakistan.

The court had reserved verdict on August 26. The petitions in this case were filed by Advocate Muhammad Kowkab Iqbal and Syed Mehmood Akhtar Naqvi for declaring Urdu as an official language.

The judgment in this context has been written in English as well in Urdu language and can be read by clicking the link below:-

Judgment in English: http://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=2023 Const.P._56_2003_E_dt_3-9-15.pdf

Judgment in Urdu: http://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=2024 Const.P.56_2003_U_dt_8-9-2015.pdf

It would not be out of place to mention here that the columnists Masood Asher, Hafiz Ullah Niazi, Mazhar Barlas and Muhammad Yusuf Janjua played a vital role in writing articles in the newspapers in favour of Urdu as official language of Pakistan. All those articles are placed below as under for record:-

08_0508_0709_0609_07cover