وزیرِاعطم یا چیف آف آرمی سٹاف؟ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعنیاتی آئین کے مطابق کس کا استحقاق ہے؟

چیئرمین کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان انجنیئر جمیل احمد ملک نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعنیاتی پر وزیرِاعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ کے مابین اختلاف کوملکی مفاد اور سول بالا دستی کےخلاف ایک سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کس کو ڈی جی آئی ایس آئی ہونا چاہے اس کا استحقاق صرف اور صرف آئینی طور پر وزیرِاعظم پاکستان کو حاصل ہے اورچیف آف آرمی سٹاف کی طرف سےیہ کہنا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعنیاتی ان کا استحقاق ہے یہ آئینی طورپر درست نہیں ہے اور یہ آئین پاکستان ہی ہےجس کی وجہ سے آج جنرل باجوہ چیف آف آرمی سٹاف ہیں کیونکہ ہمارے ملکی آئین کے مطابق کس کو چیف آف آرمی سٹاف بنانا ہے یہ استحقاق کسی بھی حاضر سروس جنرلز کو حاصل نہیں ہوتا ہے اور یہ وزیرِاعظم پاکستان کی صوابدید پر ہے کہ وہ سنئیر موسٹ یا کسی جونیئر جنرل کو چیف آف آرمی سٹاف بنا دیں۔یہ عمران خان ہی ہے کہ جس نے بطورِوزیراعظم جنرل باجوہ جو ایک جونیئر جنرل تھے انکو چیف آف آرمی سٹاف بنایا تھا۔اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ کو ڈی جی آئی ایس آئی کی تعنیاتی پر وزیرِاعظم کے استحقاق کو تسلیم کرنا چاہے۔
کمیونسٹ پارٹی نے مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلزپارٹی پر شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اختلافات کے باوجودمسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلزپارٹی کوڈی جی آئی ایس آئی کی تعنیاتی پر وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہے اور کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہے۔ایک طرف مسلم لیگ ن”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگا رہی ہے اور دوسری طرف ڈی جی آئی ایس آئی کی تعنیاتی پر بغض معاویہ میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ کا ساتھ دے رہے ہیں جو ایک شرمناک ، گری ہوئی حرکت اورغیر سیاسی وغیرجمہوری عمل ہے اور یہی رویہ پیپلز پارٹی نے اپنایا ہوا ہے۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے اپنے آئینی استحقاق کا استعمال کرتے ہوئے ایک ریٹائرڈ جنرل کلو کو ڈی جی آئی ایس آئی تعنیات کیا تھا۔اس موجودہ صورت حال میں کمیونسٹ پارٹی واضح اعلان کرتی ہے کہ وہ وزیراعظم کی حمایت میں کھڑی ہےکیونکہ کمیونسٹ پارٹی کا ڈوٹوک موقف ہے کہ فوج کو ہر حالت میں سیاست سے دور رینا چاہے، سول بالا دستی کو تسلیم کرنا چاہے اور اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئےسیاست اورڈی جی آئی ایس آئی کی تعنیاتی پر وزیراعظم کے استحقاق کو تسلیم کرنا چاہے۔ان خیالات کا اظہار پریس میڈیا آف سی پی پی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔
Mazhar Ud Din, MuhammadSaleem Mian and 5 others
2 comments
1 share
Like

Comment
Share

Leave a Reply